اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران میں جاری عالمی قرآنی مقابلوں کے دوران قرآن کے میدان میں فعال خواتین کے اعزاز میں منعقدہ چھٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بانو صفاتی نے کہا: یہ محفل جس میں موجود ہر فرد کا قرآن کریم سے کوئی نہ کوئی تعلق پایا جاتا ہے اس میں آسمانی نور کا احساس ہو رہا ہے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہر انسان جو اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے مختلف شعبوں میں مصروف عمل ہے اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہا: وہ انسان جو ایک قرآنی مرکز قائم کرتا ہے یا قرآنی تعلیم و تربیت دینے میں کوشاں ہے اسے چاہیے کہ وہ قرآن کے مطالب پر بھی توجہ کرے۔
اس مجتہدہ خاتون نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ قرآن کریم کے حوالے سے تین چیزوں تلاوت، تدبر اور عمل کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہا: تلاوت اور تدبر سے زیادہ اہم اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: روایتوں میں تاکید کی گئی ہے کہ ہر مومن روزانہ کم سے کم ۵۰ آیتوں کی تلاوت کرے اور ان میں غور و فکر کرے اس لیے کہ قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور زندگی کے تمام مرحلوں اور لمحوں میں اللہ کا دستور رکھتا ہے۔
بانو صفاتی نے کہا: قرآن کی زندگی ساز تعلیمات زندوں کے لیے ہیں لیکن افسوس سے آج ہمارے معاشرے میں قرآن کریم کو مُردوں سے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ قرآن ایک حقیقت ہے اور یہ حقیقت انسانوں کی زندگیوں میں داخل ہونا چاہئے کہا: مومن کا احترام کعبے کے احترام حتیٰ قرآن کے احترام سے بالاتر ہے، اس لیے کہ ظاہری قرآن، الفاظ کا مجموعہ ہے اور کعبہ چند پتھروں کا ڈھانچہ ہے لیکن اگر قرآن کی حقیقت ایک مومن میں تجلی کر جائے تو اس کا وجود ایک زندہ قرآن کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے جو قرآن اور کعبہ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا: قرآن کے ماننے والے، انہیں نہیں جا سکتا جو دوسرے مسلمانوں پر آگ برسائیں اور بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل عام کریں جیسا کہ آج یمن میں ہو رہا ہے۔
بانو صفاتی نے آخر میں کہا: امام علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق قرآن کریم کا ایک چہارم حصہ اسلام کے دشمنوں کے بارے میں نازل ہوا ہے لہذا ہمیں اپنے اندر بصیرت پیدا کرنا چاہیے اور اپنے دوست و دشمن کو پہچاننا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲